یونین کونسل بیروٹ کے قابل فخر عسکری سپوت
--------------------
کیسے لکھتا پھر وہ شاعر ، عارض و لب کے افسانے
خون شہیداں جس کی نگاہ میں سرخ گلابوں جیسا تھا
********************
کیسے لکھتا پھر وہ شاعر ، عارض و لب کے افسانے
خون شہیداں جس کی نگاہ میں سرخ گلابوں جیسا تھا
********************
تحقیق و تحریر: محمد عبیداللہ علوی
********************
********************
کوہسار کی نئی عسکری تاریخ کا آغاز معرکہ بالا کوٹ سے
ہوتا ہے، یوں تو ۔۔۔ کوہسار کے قبائل ہر وقت تاریخ کے ہر دور میں ۔۔۔۔ قومی
نصب العین اور دین اسلام کی سربلندی کیلئے جانوں کی قربانیاں پروانہ وار
دیتے آ رہے ہیں ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ معرکہ بالا کوٹ وہ جنگ تھی جس نے ۔۔۔۔
مسلمانان کوہسار کی قسمت کا تعین کر دیا تھا ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ ان کے سامنے
تختی تقدیر پر یہ رقم کیا جا چکا تھا کہ ؎
شب گریزاں ہو گی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا ۔۔۔۔۔... نغمہ توحید سے
یہ ایسا معرکہ تھا جس میں مسلمانان کوہسار کا گھر ایسا نہ تھا جس نے پورے خانوادوں نے قربانی نہ دی ہو، آپ خود دیکھ لیجئے اور مشاہدہ کیجئے کہ ۔۔۔۔ بالا کوٹ کی سرزمین سے کوٹلی ستیاں تک دریائے جہلم کے کناروں پر ایسی قبریں ان شہدا کی یاد دلاتی ہیں جنہوں ہمارے آج کیلئے اپنا کل قربان کر دیا تھا ۔۔۔۔ یہ قبریں انفرادی طور پر تو خاموش ہیں کہ یہ غیرتمند لوگ کون تھے جنہوں نے سکھوں کی خون آشامی کا مقابلہ کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ڈوگریت کا نام و نشان کو ہی مٹا دیا۔اٹھارہ ستاون کے بعد تو غلامی کی وہ چادر تنی کہ نوے سال تک کچھ ہوش ہی نہیں رہا اور جب آزادی کی شمع روشن ہوئی تو ۔۔۔۔ اسی کوہسار سرکل بکوٹ کی ایک یونین کونسل ۔۔۔۔بیروٹ ۔۔۔۔ جس میں تمام تر تعلیمی سہولتوں کی محرومیوں کے باوجود 30 پی ایچ ڈیز اورلاتعداد ایم فل موجود ہیں ۔۔۔۔ یہاں کی تعلیمی درسگاہ ۔۔۔۔ ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کے فارغ التحصیل مجاہدین نے نہ صرف ۔۔۔۔ مادر وطن کیلئے ۔۔۔۔ دفاعی محاذ پر قابل فخر کارنامے انجام دئے ہیں بلکہ ۔۔۔۔ وہ خود اپنی پاک فوج کیلئے سرفروشانہ خدمات کی وجہ سے ۔۔۔۔ اہلیان بیروٹ کے ماتھے پر ۔۔۔۔ نشان فخر ۔۔۔۔ بن کر چمک رہے ہیں ۔۔۔۔ یہ کون ہیں جس کیلئے ۔۔۔۔ اہلیان بیروٹ کی محبتیں نشان راہ ہیں ۔۔۔۔ ان کے دلوں کی دھڑکنیں ہیں ۔۔۔۔ ان کی روح کا قرار ہیں ۔۔۔۔ اور انہیں ان کی صورت میں یہ اعتبار اور اعتماد مل رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔ ہم زندہ قوم ہیں ،پائندہ قوم ہیں۔۔۔۔۔ پاکستان اور بیروٹ کے ان قابل فخر بیٹوں کا مختصر تعارف کچھ اس طرح سے ہے۔
شب گریزاں ہو گی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا ۔۔۔۔۔... نغمہ توحید سے
یہ ایسا معرکہ تھا جس میں مسلمانان کوہسار کا گھر ایسا نہ تھا جس نے پورے خانوادوں نے قربانی نہ دی ہو، آپ خود دیکھ لیجئے اور مشاہدہ کیجئے کہ ۔۔۔۔ بالا کوٹ کی سرزمین سے کوٹلی ستیاں تک دریائے جہلم کے کناروں پر ایسی قبریں ان شہدا کی یاد دلاتی ہیں جنہوں ہمارے آج کیلئے اپنا کل قربان کر دیا تھا ۔۔۔۔ یہ قبریں انفرادی طور پر تو خاموش ہیں کہ یہ غیرتمند لوگ کون تھے جنہوں نے سکھوں کی خون آشامی کا مقابلہ کیا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ڈوگریت کا نام و نشان کو ہی مٹا دیا۔اٹھارہ ستاون کے بعد تو غلامی کی وہ چادر تنی کہ نوے سال تک کچھ ہوش ہی نہیں رہا اور جب آزادی کی شمع روشن ہوئی تو ۔۔۔۔ اسی کوہسار سرکل بکوٹ کی ایک یونین کونسل ۔۔۔۔بیروٹ ۔۔۔۔ جس میں تمام تر تعلیمی سہولتوں کی محرومیوں کے باوجود 30 پی ایچ ڈیز اورلاتعداد ایم فل موجود ہیں ۔۔۔۔ یہاں کی تعلیمی درسگاہ ۔۔۔۔ ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کے فارغ التحصیل مجاہدین نے نہ صرف ۔۔۔۔ مادر وطن کیلئے ۔۔۔۔ دفاعی محاذ پر قابل فخر کارنامے انجام دئے ہیں بلکہ ۔۔۔۔ وہ خود اپنی پاک فوج کیلئے سرفروشانہ خدمات کی وجہ سے ۔۔۔۔ اہلیان بیروٹ کے ماتھے پر ۔۔۔۔ نشان فخر ۔۔۔۔ بن کر چمک رہے ہیں ۔۔۔۔ یہ کون ہیں جس کیلئے ۔۔۔۔ اہلیان بیروٹ کی محبتیں نشان راہ ہیں ۔۔۔۔ ان کے دلوں کی دھڑکنیں ہیں ۔۔۔۔ ان کی روح کا قرار ہیں ۔۔۔۔ اور انہیں ان کی صورت میں یہ اعتبار اور اعتماد مل رہا ہے کہ ۔۔۔۔۔ ہم زندہ قوم ہیں ،پائندہ قوم ہیں۔۔۔۔۔ پاکستان اور بیروٹ کے ان قابل فخر بیٹوں کا مختصر تعارف کچھ اس طرح سے ہے۔
جنرل ریٹائرڈ مقصود عباسی
جنرل ریٹائرڈ مقصود عباسی بیروٹ کے وہ جوہر قابل ہیں جو شروع ہی سے کچھ کرنے کے متمنی تھے، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ کے میٹرک میں بھی ریکارڈ ہولڈر ہیں اور میٹرک میں انہوں نے اس وقت کے پشاور بورڈ کے زیر اہتمام ہونے والے امتحان میں جتنے نمبر لئے تھے اس کا ریکارڈ بھی آج تک نہیں ٹوٹ سکا ہے، انہوں نے1977 کی اینٹی بھٹو تحریک میں سیای اڑان بھری، وہ جماعت اسلامی بیروٹ کے ہر جلسے کی رونق ہوتے تھے، ان کے ولولہ انگیز خطاب سے نوجوانوں میں آگ بھر جاتی تھی اور فظا نعرہ اللہ اکبر سے گونج اٹھتی تھی، 1978 میں انہیں پاک فوج میں کمیشن ملا، اللہ کے فضل و کرم سے وہ عساکر پاکستان میں ترقی کے زینے چڑھتے گئے، اور جرنیلی کے عہدے تک پہنچ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا، ہم اہلیان بیروٹ بریگیڈئر کے عہدے سے آگے نہیں بڑھ سکے تھے اور اس کیلئے دیول کی طرف دیکھا کرتے تھے مگر مقصود عباسی نے عساکر پاکستان کا سب سے بڑا ۔۔۔۔ جرنیلی کا منصب اہلیان بیروٹ کے نام کر کے ہمارا سر فخر سے بلند کر دیاہے۔
جنرل مقصود عباسی بیروٹ کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، سابق ناظم بیروٹ آفاق عباسی کے بڑے بھائی ہیں، ان کے خاندان میں نمبردار محمد فیروز خان کا نام ملتا ہے جو اپنے دور کے ایک اہم بیروٹوی سٹیک ہولڈر تھے، ان کے والد ارباب عباسی کاملال ڈھونڈ عباسی خاندان کے چشم و چراغ ہیں، انہوں نے بیروٹ کی دوسری بڑی کھوہاس مسجد میں شاعر کوہسار، ممتاز عالم دین اور سابق ٹیچر مولانا یعقوب علوی بیروٹوی سے قرآن حکیم کی تعلیم حاصل کی، ادب کا شوق بھی انہی کی صحبتوں کا فیض تھا، مختلف عسکری عہدوں پر 37برس تک کام کیا اور آخری بار کور کمانڈر حیدر آباد کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں ۔۔۔۔ ابھی وہ عسکری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد 24 ماہ کی عدت سے گزر رہے ہیں اور عوامی تقریبات سے سردار مہتاب کی طرح کافی پرہیز کرتے ہیں، اس عبوری دور کے بعد ان کے عزائم کیا ہوں گے فی الوقت کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔۔۔۔۔ انتظار فرمائیے۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ مصدق عباسی
اہلیان
بیروٹ کی صدیوں کی پیاس کو بجھایا، ایک ایمبولینس بھی لیکر دی مگر ہم نے
وہ بھی کھو دی، پروپیگنڈہ کیا گیا کہ ۔۔۔۔ وہ اہنی جنم بھومی کیلئے رفاہی
اقدامات اس لئے کر رہے ہیں کہ ۔۔۔ وہ قومی یا صوبائی اسمبلی کے الیکشن لڑیں
گے مگر انہوں نے یہ کہہ کر مقامی سیاست کاروں کے تنے ہوئے اعصاب کو ریلکس
کردیا کہ ۔۔۔ جو کام وہ کر رہے ہیں وہ ۔۔۔۔ سیاسی کاموں سے کہیں زیادہ
اعلی اور ارفع ہے اور وہ اہلیان بیروٹ کی خدمت کر کے اس صلہ صرف اللہ تبارک
و تعالی سے چاہتے ہیں ۔۔۔۔ غالباً تین عشروں تک مختلف عسکری عہدوں پر
بہادر پاک فوج کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیں، بچپن میں انہوں نے ان
کی چھوٹی ہمشیرہ نے راقم الحروف کی والدہ مرحومہ سے قرآنی تعلیم حاصل کی،
میٹرک ہائی سکول اوسیاہ سے کیا اور ایف ایس سی آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفر
آباد سے ۔۔۔۔ وہ رشتے میں جنرل انیس، جنرل ریاض، ایئر کموڈور خاقان عباسی
اور بریگیڈیئر تاج عباسی کے بھانجھے ہیں، خاندانی اعتبار سے حاجیال ڈھونڈ
عباسی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد قیام پاکستان سے پہلے کے مسلم
لیگی ہیں اور انہوں کوہالہ میں قائد اعظم کا استقبال بھی کیا تھا ۔۔۔۔
بریگیڈیئر ریٹائرڈ مصدق عباسی کا اعزاز یہ بھی ہے کہ ۔۔۔۔ وہ یو سی بیروٹ
کے پہلے پاک فوج کے کمیشنڈ آفیسر ہیں اور جنرل مقصود عباسی سے عمر میں
سینئر ہیں ۔۔۔۔ ان سے پہلے کمانڈر عزیز خان آف ترمٹھیاں کا نام لیا جاتا
تھا مگر ان کا یہ عہدہ اعزازی تھا ۔۔۔۔۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ مصدق عباسی کی
شاندار لائف اچیومنٹس بھی ہیں، انہوں نے نیب کراچی، پشاور اور اسلام آباد
کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے لوٹی ہوئی کھربوں ڈالرز کی رقم ریکور کر کے قومی
خزانے میں جمع کرائی، وہ ایک بہترین کالم نگار بھی ہیں اور اسلام آباد کے
ایک تھنک ٹینک پلڈاٹ کے پلیٹ فارم سے کرپشن سے متعلق آرٹیکلز لکھتے ہیں۔
(Read more)
کرنل ریٹائرڈ مشتاق قریشی
(Read more)
کرنل ریٹائرڈ مشتاق قریشی
بڑوں
کا تعلق بیروٹ خورد کی موڑہ وارڈ سے تھا، 1935میں سنگرالاں بیروٹ منتقل
ہوئے، 1950 میں ان کے والد مولانا عبدالمجید قریشی اپنے بھائیوں اور سارے
کنبے سمیت مکمل طور پر راولپنڈی منتقل ہو گئے، مولانا قریشی کے چار
بھائیوں سمیت ساری اولاد نے اعلی تعلیم حاصل کی اور وہ اسلام آباد میں
اکثر محکموں کے ڈائریکٹر بنے، کرنل مشتاق قریشی نے بھی فوج میں کمیشن حاصل
کیا، اور چند سال پہلے ریٹائر ہی ہوئے ہیں، اس کے بعد وہ انسٹیٹیوٹ آف
سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ٹوبی (کے پی کے) میں ڈائریکٹر جنرل تعینات ہوئے، پھر
ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں ڈائیرکٹر ایڈمنسٹریشن بنے، آج کل
گردے مریضوں کیلئے ایک فلاحی تنظیم کڈنی ایسوسی ایشن چلا رہے ہیں جہاں
ڈیلائیسس سینٹر میں ہزاروں مریضوں کا علاج جاری ہے، ان کے اکلوتا صاحبزادے
ڈاکٹر شبلی سویڈن کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
(Read more)
کرنل (ریٹائرڈ) شبراز عباسی
ان کی بیروٹ میں اس ڈھوک کا نام تہمن ہے جہاں ان کی ولاست ہوئی۔۔۔۔ بیروٹ کے کاروباری میرال ڈھونڈ عباسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور بریگیڈیئر مصدق عباسی کے بہنوئی انور عباسی کے فرسٹ کزن (ماموں زاد) ہیں، ان کے والد ایوب خان ایک کاروباری شخصیت تھے،کرنل (ریٹائرڈ) شبراز عباسی نے بھی اوسیا سے میٹرک اور مظفر آباد سے ایف ایس سی کے بعد فوج میں کمیشن حاصل کیا، 1971 کی پاک بھارت جنگ میں شجاعت کی داستانیں رقم کیں،ریٹائرمنٹ کے بعد مستقل طور پر اسلام آباد میں رہائش اختیار کی اور سٹاک ایکس چینج کے حصص کے کاروبار سے منسلک ہوئے مگر بوجوہ اسے چھوڑ دیا، آج کل ذاتی کاروبار کر رہے ہیں۔
کرنل زائد محمود عباسی
اور
کیپٹن عمیر عبداللہ شہید
(Read more)
کرنل (ریٹائرڈ) شبراز عباسی
ان کی بیروٹ میں اس ڈھوک کا نام تہمن ہے جہاں ان کی ولاست ہوئی۔۔۔۔ بیروٹ کے کاروباری میرال ڈھونڈ عباسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور بریگیڈیئر مصدق عباسی کے بہنوئی انور عباسی کے فرسٹ کزن (ماموں زاد) ہیں، ان کے والد ایوب خان ایک کاروباری شخصیت تھے،کرنل (ریٹائرڈ) شبراز عباسی نے بھی اوسیا سے میٹرک اور مظفر آباد سے ایف ایس سی کے بعد فوج میں کمیشن حاصل کیا، 1971 کی پاک بھارت جنگ میں شجاعت کی داستانیں رقم کیں،ریٹائرمنٹ کے بعد مستقل طور پر اسلام آباد میں رہائش اختیار کی اور سٹاک ایکس چینج کے حصص کے کاروبار سے منسلک ہوئے مگر بوجوہ اسے چھوڑ دیا، آج کل ذاتی کاروبار کر رہے ہیں۔
کرنل زائد محمود عباسی
اور
کیپٹن عمیر عبداللہ شہید
کرنل
زائد محمود عباسی کے بزرگوں کا تعلق بیروٹ خورد کی ڈھونڈ عباسی برادری کے
قطبال خاندان سے تھا جو 20ویں صدی کی ابتدا میں نکر قطبال (وی سی کہو غربی)
سے موضع سمبلانیاں، ترمٹھئیاں آ کر آباد ہوئے تھے، اس کے دادا میر عبدل
خان اپنے وقت کے ٹھیکیدار تھے ، ان کے دو بیٹے تھے، بڑے بیٹے حاجی خلیل
الرحمان عباسی تھے جن کا نو سال پہلے انتقال ہو گیا تھا، چھوٹے بیٹے کرنل
زائد محمود عباسی نے پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا جبکہ ان کے بیٹے عمیر
عباسی نے بھی اپنے والد کی راہ اختیار کی اور اپنے والد کے ادارے پاک فوج
میں کمیشن حاصل کیا اور وزیرستان کے فسادی ظالمان کو جہہنم واصل کرتے ہوئے
خود بھی جام شہادت نوش کر لیا۔
*****************




